مہر خبررساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ تائیوان کے نیشنل پیلس میوزیم کی جانب سے خطاطی کے 1200 برس قدیم شاہکار کو جاپان میں واقع ٹوکیو نیشنل میوزیم کو ادھار دینے کے فیصلے پر چین میں غم و غصہ کے اظہار کیا جارہا ہے۔
کاغذ پر یہ ایک براہ راست ثقافتی تبادلہ دکھائی دیتی ہیں لیکن 1200 برس قبل بنائے گئے اس شاہکار کی وجہ سے چین کی برہمی کی وجہ یہ ہے کہ ’ ریکوئیم ٹو مائی نیفیو ‘ (Requiem to My Nephew ) یعنی میرے بھتیجے کے لیے دعائے مغفرت نامی اس خطاطی کو چین کے عظیم خطاط یان جین کنگ نے لکھا تھا۔ انہوں نے یہ شاہکار 759 عیسوی میں اس وقت لکھا تھا جب انہیں اپنے بھتیجے کے انتقال کا علم ہوا۔
چائینز یونیورسٹی آف ہانک کانگ کے فائن آرٹس پروفیسر ٹونگ کام ٹانگ نے بتایا کہ ’ یان جین کنگ چین میں ایک نام رکھتے ہیں‘۔ ٹونگ کام ٹانگ کا کہنا تھا کہ یہ شاہکار یان جین کنگ کا ابتدائی خاکہ تھا جس میں ان کی لکھی گئی شکستہ تحریر بھی موجود ہے جو اسے مزید قیمتی بناتی ہے لیکن اس کا حتمی نمونہ کھوچکا ہے۔
فن کے اس شاہکار کو چین میں صدیوں تک محفوظ کیا گیا جس کے بعد اسے 1940 میں دیگر چینی نواردات کے ہمراہ تائیوان لےجایا گیا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک یہ خطاطی کا یہ نمونہ تائیوان نیشنل پیلس میوزیم میں موجود ہے اور اسے دوسری مرتبہ بیرون ملک لے جایا جارہا ہے۔
آپ کا تبصرہ